02:49 , 1 مئی 2026
Watch Live

نیپرا رپورٹ: پاور سیکٹر میں بھاری خسارہ

بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے مالی نقصانات

ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے مالی سال 2024-25 کے دوران قومی خزانے کو 472 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ یہ انکشاف نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جاری کردہ سالانہ کارکردگی رپورٹ میں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے مالی نقصانات ترسیلی و تقسیمی خرابیوں اور کم وصولیوں کی وجہ سے بڑھے، جس سے پاور سیکٹر کے مسائل مزید سنگین ہو گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 265 ارب روپے کا نقصان صرف ترسیلی اور تقسیمی نقصانات کی مد میں ہوا۔ سب سے زیادہ نقصان پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کو ہوا جس کا حجم 87 ارب 48 کروڑ روپے رہا۔ اس کے بعد کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کو 52 ارب 41 کروڑ اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کو 36 ارب 4 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

دیگر کمپنیوں میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کا نقصان 35 ارب 17 کروڑ اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کا 27 ارب 14 کروڑ روپے رہا۔ ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کو 14 ارب روپے جبکہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کو سب سے کم 2 ارب 97 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ

اسی طرح اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کو 4 ارب 78 کروڑ اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کو تقریباً ساڑھے 5 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کے الیکٹرک کے ترسیلی و تقسیمی نقصانات اس حصے میں شامل نہیں کیے گئے۔

مزید یہ کہ کم وصولیوں کی وجہ سے بھی 207 ارب روپے کا نقصان ہوا، جس میں سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کا حصہ 132 ارب روپے جبکہ کے الیکٹرک کا 74 ارب 66 کروڑ روپے ہے۔ رپورٹ کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے مالی نقصانات پاور سیکٹر کے گردشی قرض میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر قومی معیشت پر پڑ رہا ہے۔

 
متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION